Top 10 Universities in Pakistan Overall Ranking By Hec 2017 Latest




This section offers access to HEC’s University Ranking finalised on basis of quality assurance, teaching quality, research, finance and facilities and social …

source

Your reaction?
Angry Angry
0
Angry
Cute Cute
0
Cute
Fail Fail
0
Fail
Geeky Geeky
0
Geeky
Lol Lol
0
Lol
Love Love
0
Love
OMG OMG
0
OMG
Win Win
0
Win
WTF WTF
0
WTF

Top 10 Universities in Pakistan Overall Ranking By Hec 2017 Latest

Comments 21

  1. Brother new HEC ranking aye hai …..2018……aur computer science IT sectors nhe bataya. ….medical engineering business batae hai laikin computer science IT sector for HEC ranking nhe bataya. ……computer science IT mai comsats fast aur Qurtuba university hai…..please check karay HEC new rakings. ….I m a student of computer science. …..

  2. مری روڈ پر کھڑے ایک آدمی نے جسم میں کھجلی کرتے ہوے صاحب "بالپوائنٹ" ملے گی۔ میں نے اسکی طرف "بالپوائنٹ" اچھالی اور آگے چلنے لگا وہ پھر بولا میں ابھی فارم بھر کے دے دوں گا۔ میں نے اسکی طرف دوبارہ دیکھا اسکا بدبودار لباس، چہرے پر گندے دانے اور آنکھیں خوفناک منظر پیش کر رہی تھی۔ اس شخص نے جلدی سے فارم کھولے اور لکھنے کی کوشش کی لیکن لکھا نہیں گیا میں اسکی طرف "کلپ بورڈ بڑھاتے ہوئے گیا ۔ اس نے شکریہ ادا کیا اور فارم کلپ بورڈ" پر رکھ کر لکھنے لگا۔ یہ فارم سب سے بڑے فراڈی ادارے NTS کے تھے۔ گرمی بہت زیادہ تھی میں نے فارم سے اسکا نام پڑھا اور غصے سے کہا صادق آپ گھر میں فارم نہی بھر سکتے تھے۔
    صادق پہلے خاموش رہا پھر اسکا آنسو گرا اور فارم پر لکھتا رہا۔ میں خاموش ہو گیا مجھے اپنی بات پر شرمندگی ہوئ۔ صادق نے تعلیمی قابلیت ایم اے اکنامکس لکھی تمام ڈگریاں اور سرٹفکیٹ 1st division کے ساتھ پاس تھیں۔ اب اس نے چلان فارم پر لکھنا شروع کر دیا پسینہ آنے کی وجہ سے اسکے فارم خراب ہو چکے تھے میں ہمدردی سے بولا آپ کو فارم کا دوبارہ پرنٹ لینا ہوگا۔ اب صادق سے نہ رہا گیا اور اس نے کہا اتنے پیسے نہیں ہیں۔ میں حیران ہو کر بولا آپکے پاس پانچ روپے کی بالپوائنٹ دس روپے کے پرنٹ کے پیسے نہیں ہیں بندا ایک وقت کی روٹی چھوڑ دیتا ہے تین سو روپے کا چلان فارم اور اتنی تعلیم کیسے مکمل کی ہے مجھے بےوقوف بناتے ہو آپے سے باہر ہو کر بہت سنائ۔ صادق ٹھنڈی سانسیں لیتے ہوئے مجھے بتائیا کہ اسکا باپ بچپن میں ہی دنیا میں نہ رہا والدہ ہمیشہ بیمار رہتی ہے بچپن میں اسے ٹوائلٹ کی صفائی کا کام ملا ٹوائلٹ کا مالک صبح بےعزتی کرکے کام شروع کرواتا اور جہاں غصہ آجائے وہیں مرغا بناکر ٹھڈے مارتا لیکن روزانہ کے بیس روپے دیتا جب بڑا ہو گیاتو کام زیادہ ملنے لگا اب ایک اکیڈمی میں 5000روپے کما لیتا تھا۔ صادق نے مزید بتائیا آج دوسرا دن ہے میں اپنی والدہ کی دوائیں اور اپنے کھانے کے پیسے بچا کر NTS کی فیس جمع کی ہے۔ میں نے اسکی باتوں پر یقین نہ کیا اس سے اسکی والدہ سے ملنے کا کہا وہ مجھے ڈھوک پراچہ کی ایک گلی میں لے کر جا رہا تھا میں ڈرا ہوا خود کو یہ حوصلہ دیتے ہوے میرے پاس کونسے خزانے ہیں رہی بات گردوں کی تو وہ ہوٹل کے کھانے کھا کھا کر پہلے سے ختم ہیں۔ صادق کوڑا کرکٹ کے ڈھیر سے ہوتا ہوا ایک ٹوٹی دیوار سے مجھے اندر آنے کے اشارے کئے درور پڑھا اور میں بھی اندر داخل ہوا۔ سامنے ایک نابینہ بڑھیا ہر سانس ایسے لیتی جیسا کہ یہ آخری ہو۔ صادق نے واشروم میں استعمال ہونےوالے مگے میں پانی بھرا اور ہماری طرف لے کر آئیا میں انکار کرنے ہی کو تھا کہ اس نے یہ مگا اپنی والدہ کے ہونٹوں سے لگائیا اسکی والدہ کو تھوڑی ہوش آئی اس نے بیٹے صادق کو چوما۔ اس بار میرے آنسو گرنے لگے۔ صادق نام ہی نہی بلکہ زبان کا بھی سچا تھا۔ میں نے ڈاکڑ کی لکھی ہوئی رسید مانگی تو مجھے پتا چلا کسی میڈیکل سٹور کی صفائی کرنے کا معاوضہ اسکی والدہ کی دوائیں ہوتیں ہیں جو میڈیکل سٹور والے اپنی مرضی سے دیتے ہیں آج صادق نے دوائیں لینے کی بجائے پیسے لئے تھے۔ ہم اس میڈیکل سٹور پر گئے "پین کلر" اور دل کی ڈھڑکن کو کنٹرول کرنے والی دو دو گولیاں تھیں۔ میں نے تھوڑا کھانا بھی خریدا اور صادق کے گھرمیں جاکر کھائیا جس میں تھوڑی سی روٹی صادق نے پانی میں ڈبو کر اپنی والدہ کو کھلائی۔ مجھے آج بھی ہر لقمۂ صادق کی یاد دلاتا ہے۔

    ** بابرعلی اشرف *

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

log in

Become a part of our community!

reset password

Back to
log in